پاکستان میں جاری نیا گریٹ گیم


تحریر: ابرار خالد


پاکستان میں جاری سیاسی جنگ اِسوقت نہ تو کرپشن کی جنگ ہے، نہ ہی کسی ایلیٹ کلاس  کے تحفظ کی، اور نہ ہی عمران خان اور نواز شریف کی۔  پاکستان عرصہ دراز سے امریکہ اور سوشلسٹ بلاک کی جنگ کا میدانِ ہے اور سوشلسٹ بلاک میں اب چین روس کے علاوہ امریکہ سے تنگ آئی وسطی ایشیائی ریاستیں اور جنوبی امریکہ کی کچھ ریاستیں بھی شامل ہو چکی ہیں جو انٹرنیشنل تجارت میں امریکی ڈالر کی اجارہ داری سے تنگ آمد بجنگ آمد ہیں۔

 چین کی کاوشوں سے سعودی عرب اور ایران کی دیرینہ دشمنی کا خاتمہ بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے اصل جنگ ہوتی ہی معاشی ہے۔

دنیا جانتی ہے کہ امریکی چوہدراہٹ کو اگر کوئی خطرہ ہے تو وہ چین روس کے معاشی تعاون سے ہے۔ لہذا پاکستان میں سی پیک (CPEC) کا منصوبہ یعنی چین روس تجارتی ہائی وے کا قیام امریکہ کے لئے انتہائی تکلیف دہ تھا، اور موجودہ سیاسی بحران کی ابتداء اِسی سی پیک سے شروع ہوئی تھی۔  چور ڈاکو اور صادق و آمین کے بیانیے سب یہیں سے  پیدا ہوئے تھے۔ 

لوگوں کو ٹیکنالوجی، میڈیکل سائنس اور چاند و مریخ پر جانے والے سائنس کے معجزے تو نظر آتے ہیں، مگر لوگ سوشل سائنس اور پولیٹیکل سائنس کے معجزوں کو نہیں دیکھ پاتے جن سے قوموں اور معاشروں کو ایک خاص سمت میں ہانکا جاتا ہے۔

امریکہ کو سُپر پاور بنانے میں اصل کردار امریکہ کی سوشل سائنس اور پولیٹیکل سائنس کی تحقیق اور ترقی کا ہے جس سے امریکہ اپنے ورلڈ آرڈر نافذ کرتا ہے۔ 

آج پاکستانی لیڈرشپ اور اسٹبلشمنٹ کا رُخ چین  اور اُس پورے خِطے کی ریجنل اکنامک ڈیویلپمنٹ کی طرف مُڑ چکا ہے جبکہ امریکہ اس خطے میں پارٹنرز تلاش کرنے کے لئے سخت بے چین اور بے تاب ہے۔ پاکستان کے پرانے جرنیل امریکہ کا ہتھیار ہوا کرتے تھے جبکہ نئے جرنیل نے نیا سبق چین کا پڑھ لیا ہے۔

 لہٰذا موجودہ آرمی چیف کی کردار کُشی کا سلسلہ اسی امریکی پولیٹیکل سائنس کی کڑی ہے جو اُس نے حال ہی میں سی پیک کے ساتھ ساتھ  کاشغر کو گوادر سے ملانے کے 58 بلین ڈالر کے ریلوے منصوبے(M2) کی سیکیورٹی اور تکمیل کی یقین دہائی کروائی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں