95

شونٹر استور کا دلخراش سانحہ


حالیہ شونٹر کا واقعہ بھی ایک دلخراش واقع ہے ۔ ان کو اب روایتی روٹس پر سفر کے دوران سیکورٹی کلیرنس کے ساتھ ساتھ لوگوں کے منفی روئے اور سب سے بڑھ کر دشوار گزار راستوں میں موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے رونما ہونے والے قدرتی آفات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ کیونکہ یہ اپنے صدیوں پرانے روایتی روٹس کا انتخاب کرنا تو جانتے ہیں لیکن یہ نہیں جانتے ہیں کہ دنیا بھر میں موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے وہ روٹس ان کے لئے اب جان لیوا ثابت ہورہے ہیں۔

تحریر: اسرار الدین اسرار


گلگت بلتستان ڈیزاسسٹر منیجمنٹ اتھارٹی نے سانحہ شونٹر کی تفصیلی رپورٹ جاری کردی ہے جس میں کئی خانہ بدوش خاندان متاثر ہوئے ہیں۔

برفانی تودہ گرنے کا واقعہ 26 مئی سہہ پہر چار بجے پیش آیا تھا جس کی زد میں آنے والے گجر بکروال برادری کے افراد کشمیر سے استور کی طرف آرہے تھے۔  اس واقع میں کل11 افراد جاں بحق جبکہ 13 افراد زخمی ہوئے ہیں، جی بی ڈی ایم اے کے مطابق واقعہ میں جاں بحق 11 افراد میں سے 8 کی لاشیں نکال لی گئی ہیں باقی کی تلاش جاری ہے۔  زخمی افراد میں سے 12 کی حالت نازک بتائی جاتی ہے  جو کہ علاج کے لئے ڈسٹرکٹ کوارٹر ہسپتال استور منتقل کر دئیے گئے ہیں۔

 جی بی ڈی ایم اے کے مطابق ریسکیو کے لئے آرمی ایویشن کی خدمات حاصل کی گئی ہیں.  تاہم موسم کی خرابی کی وجہ سے ریسکیو آپریشن  شروع نہیں کیا جاسکا ہے۔ گلگت، استور اور اسکردو کے ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے۔

عام لوگوں کے لئے یہ محض ایک حادثہ ہے لیکن خانہ بدوشوں کی زندگیوں سے متعلق معلومات رکھنے والے لوگ جانتے ہیں کہ یہ حادثہ ان تمام مصائب کے سلسلے کی ایک جھلک ہے جو خانہ بدوش افراد صدیوں سے سامنا کر تے رہے ہیں۔

گراس روٹ آرگنائزیشن فار ڈیولپمنٹ آف ہیومن (گوڈھ) کے مطابق پاکستان میں خانہ بدوش افراد کی کل تعداد ڈیڑھ کروڑ کے لگ بھگ ہے۔ جن کا مستقل گھر یا ٹھکانہ نہ ہونے کی وجہ سے نادرا کے پاس ان کی رجسٹریشن اور ڈیٹا نہیں ہے۔ یہ افراد پاکستان کے چاروں صوبوں ، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں موسم کے حساب سے ہجرت کرتے رہتے ہیں۔ ان کی رجسٹریشن نہیں ہونے کی وجہ سے ان کو شناخت، صحت ، تعلیم، انصاف سمیت ہرطرح کی سہولیات سے محرومی کا سامنا ہوتا ہے۔ خاص طور سے ان کے بچے، خواتین، بزرگ اور افراد باہم معذوری انتہائی مشکلات کا سامنا کرتے ہیں۔

 پاکستان کے مختلف مقامات پر ان کو مختلف ناموں سے پہچانا جاتا ہے ۔ گجر بکروال، جاٹ، کوچی، موہان وغیرہ جیسے نام ان کے لئے مختص ہیں۔  پشاور میں ان کو چنگڑیان، ملاکنڈ میں کڈوال، ڈیرہ اسماعیل خان میں قلقی والے وکیئھل، کوہاٹ میں مصلی و چواڑیان، بنوں میں ’کوٹانڑی جبکہ ہزارہ میں بھنگی کہا جاتا ہے ۔

ان کی تعداد کی درست معلومات اس لئے نہیں ہے کیونکہ ان کا نہ تو ایک ایڈریس ہے، نہ رجسٹریشن اور نہ ہی کے پاس قومی شناخت کارڑ ہوتا ہے۔

یہ لوگ صدیوں سے ایک جگہ سے دوسری جگہ موسم کے اعتبار سے ہجرت کرتے،، بکریاں پالنے ، سونا نکالنے، بندر تماشا لگانے، بھیک مانگنے سمیت اپنی زندگی گزارنے کے لئے مختلف قسم کے طریقے اپناتے ہیں۔

 پاکستان اور بالخصوص کشمیر اور گلگت بلتستان میں خانہ بدوشوں کی زندگی انتہائی کسمپرسی کا شکار ہے۔ ان کی زندگیوں کو بہتر بنانے کے لئے حکومتی سطح پر آج تک کوشش نہیں کی گئی ہے۔ یہ لوگ شیلٹر، صحت ، تعلیم اور باعزت روزگار کے حقوق سے محروم ہونے کے علاوہ ایسے حادثات کا شکار ہوجاتے ہیں جن میں کئی بچے ، خواتین اور بزرگ افراد لقمہ اجل بن جاتے ہیں۔

حالیہ شونٹر کا واقعہ بھی ایک دلخراش واقع ہے ۔ ان کو اب روایتی روٹس پر سفر کے دوران سیکورٹی کلیرنس کے ساتھ ساتھ لوگوں کے منفی روئے اور سب سے بڑھ کر دشوار گزار راستوں میں موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے رونما ہونے والے قدرتی آفات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ کیونکہ یہ اپنے صدیوں پرانے روایتی روٹس کا انتخاب کرنا تو جانتے ہیں لیکن یہ نہیں جانتے ہیں کہ دنیا بھر میں موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے وہ روٹس ان کے لئے اب جان لیوا ثابت ہورہے ہیں۔

 شونٹر استور کا واقعہ حکمرانوں کی آنکھیں کھولنے کے لئے کافی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ملکی سطح پر خانہ بدوش افراد کی رجسٹریشن، ان کے بچوں کی تعلیم و صحت ، باعزت روزگار سمیت دیگر حقوق کی فراہمی کے لئے قانون سازی کی جائے تاکہ ان کو انسانی آبادی کا حصہ بن کرزندگی گزارنے کا موقع مل سکے۔

 دنیا کے کئی ممالک نے خانہ  بدوشوں کے لئے بہت ہی موثر پالیسیاں بناکر ان کو معاشرے میں معزز شہر ی بننے کے مواقع فراہم کردیئے ہیں۔ ہمارے ہاں یہ خانہ بدوش اب بھی انسانوں کی فہرست میں شامل نہیں ہیں۔ اس لئے ان کے دکھ ، تکلیفات اور مشکلات سے معاشرے کے عام لوگ واقف نہیں ہیں۔

ہم شونٹر استور کے سانحے  میں جاں بحق ہونے والے خانہ بدوش افراد کے لواحقین سے دلی تعزیت کا اظہار کرتے ہیں اور حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ذخمیوں کے علاج میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ رکھی جائے اور ان کے بچے، خواتین اور دیگر افراد کے لئے ایک قابل ذکر پیکیج کے تحت ہر طرح کی مدد فراہم کی جائے۔

مصنف کے بارے میں :

اسرار الدین اسرار انسانی حقوق کمیشن آف پاکستان گلگت بلتستان کے کا نمائندہ ہے۔ اسرار بام جہان کے ریگولر لکھاری ہے ان کی دلچسپی کے موضات سماجی مسائل، گھریلو تشدد اور انسانی حقوق کے مسائل ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں