وفاقی بجٹ ۔ گورکھ دھندہ


پچھلے مالی سال کا بجٹ پیش کرتے ہوئے سندھ حکومت نے جو کم سے کم ماہانہ اجرت مقرر کی تھی اس پر ملک کی سب سے بڑی عدالت نے لمحہ بھر کی تاخیر کے بغیر سرمایہ داروں کو حکم امتناعی تھما دیا تھا۔

تحریر: حیدر جاوید سید


69کھرب اور 24 ارب کے خسارے کے ساتھ آئندہ مالی سال کے لئے 144کھرب 60 ارب پر مشتمل وفاقی بجٹ گزشتہ روز وفاقی وزیر خزانہ اسحق ڈار نے قومی اسمبلی میں پیش کر دیا۔ بجٹ میں ای او بی آئی کی پنشن 10 ہزار روپے ماہانہ کر دی گئی جبکہ کم سے کم ماہانہ اجرت 32 ہزار روپے مقرر کی گئی ہے۔ پنشن میں 17.5فیصد اضافہ کیا گیا۔

 دفاعی بجٹ  16 فیصد اضافے کے ساتھ 1804 ارب روپے ہوگا۔ گریڈ 16 تک تنخواہوں میں 35 اور   17 سے اوپر تک 30 فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔

وزیر خزانہ نے بجٹ تقریر میں دعویٰ کیا ہے کہ برآمدات کو 30 ارب ڈالر سالانہ کی سطح تک پہنچانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ نان فائلر بینک اکاؤنٹ سے 50 ہزار روپے نکلوانے پر 6 /فیصد ٹیکس ادا کریں گے۔ کھاد کی سبسڈی کے لئے 6 ارب روپے اونٹ کے منہ میں زیرے کے مترادف ہی ہے اس سے حکومت کی زراعت کے شعبہ سے ’’گہری‘‘ دلچسپی عیاں ہوتی ہے۔

ترسیلات زر 33 ارب ڈالر کی حد تجویز کی گئی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ افراد زر 21 فیصد رہنے کا اندازہ ہے جبکہ شرح نمو 3.5 فیصد ہو گی۔

پارلیمنٹیرینز کی سکیموں کے لئے 90 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔ سوال یہ ے کہ بنیادی شہری سہولتوں کی فراہمی کے لئے بلدیاتی اداروں کو فعال کرنے میں کیا امر مانع ہے نیز یہ کہ دنیا کے کس ملک میں ارکان پارلیمنٹ کی ترقیاتی سکیمیں ہوتی ہیں؟ محصولات کی آمدنی کا ہدف 9 ہزار 200 ارب مقرر کیا گیا ہے۔

لیپ ٹاپ سکیم کے لئے 10 ارب روپے رکھے گئے۔ لگتا ہے کہ (ن) لیگ نے اپنے گزشتہ دور میں لیپ ٹاپ سکیم کے حوالے سے سامنے آنے والے سکینڈل سے سبق نہیں سیکھا۔ 80 ہزار ٹیوب ویلز کو شمسی توانائی پر منتقل کرنے کے لئے 30 ارب روپے کی رقم مختص کی گئی ہے۔ سول انتظامیہ کے لئے 714 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔

زرعی قرضوں کی حد 2250 ارب روپے رکھتے ہوئے بیجوں پر ٹیکس ڈیوٹی کے خاتمے کا اعلان کیا گیا۔

وزیر خزانہ نے اپنی تقریر میں مہنگائی اور معاشی ابتری کا ذمہ دار پی ٹی آئی کی سابق حکومت کو قرار دیا جبکہ سابق حکمران جماعت تحریک انصاف کے اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ بجٹ تجزیہ جعلی اقتصادی سروے کا مرہون منت ہے۔ پی ڈی ایم نے ملک پر جو معاشی تباہی مسلط کی ہے اس سے عام آدمی کے لئے روزمرہ کی ضروریات کا حصول خواب بنتا جا رہا ہے۔

وزیر خزانہ نے بجٹ تقریر میں دعویٰ کیا ہے کہ برآمدات کو 30 ارب ڈالر سالانہ کی سطح تک پہنچانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ نان فائلر بینک اکاؤنٹ سے 50 ہزار روپے نکلوانے پر 6 /فیصد ٹیکس ادا کریں گے۔ کھاد کی سبسڈی کے لئے 6 ارب روپے اونٹ کے منہ میں زیرے کے مترادف ہی ہے اس سے حکومت کی زراعت کے شعبہ سے ’’گہری‘‘ دلچسپی عیاں ہوتی ہے۔

پی ٹی آئی کے اعلامیہ میں وزیر خزانہ سے جعلی اعداد و شمار پیش کرکے قوم کو گمراہ کرنے پر مستعفی ہونے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔ وفاقی بجٹ میں بونس شیئر کمپنیوں پر 10 فیصد کی شرح سے ٹیکس لگایا گیا ہے۔ دوسری جانب بیرون ملک مقیم افراد کے سال میں ایک بار ایک لاکھ ڈالر لانے پر ٹیکس اور پوچھ گچھ کی چھوٹ دی گئی اس سے یہ تاثر ابھرا ہے کہ کالے دھن کو سفید کرنے کی غیر اعلانیہ سکیم مخصوص خاندانوں اور ان کے لاڈلوں کو نوازنے کی کوشش ہے۔

اصولی طور پر اس طرح کی اسکیم کا موجودہ حالات میں متحمل نہیں ہوا جا سکتا۔ بنا پوچھ گچھ اور ٹیکس کے سال میں ایک بار ایک لاکھ ڈالر لانے کی ترغیب کے منفی اثرات کو مدنظر رکھنے کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی۔

وفاقی بجٹ میں تعلیم کے لئے 81.9 اور صحت کے لئے 22.8 ارب روپے مختص کئے گئے۔ 18 ویں ترمیم کے بعد گو تعلیم اور صحت صوبائی امور میں آتے ہیں لیکن ہر دو شعبوں کے حوالے سے وفاق کی ذمہ داری ختم نہیں ہو جاتی۔ اسی طرح اس بجٹ میں بھی ساڑھے پانچ سو ارب روپے کے لگ بھگ دفاعی پنشن کو واپس دفاعی بجٹ کا حصہ بنانے کا اعلان نہیں ہوا۔ ایسا لگتا ہے کہ سول سپرمیسی دور کہیں دم توڑ گئی ہے اور اس پر ملازمت کی خواہش غالب آگئی ہے۔

دفاعی پنشن کو چوتھے فوجی آمر کے وزیر خزانہ شوکت عزیز نے سول بجٹ کا حصہ بنایا تھا بعد ازاں 2008ء سے پچھلے مالی سال کے بجٹ تک تواتر کے ساتھ مطالبہ کیا جاتا رہا کہ اسے واپس دفاعی بجٹ کا حصہ بنایا جائے۔

امسال بھی 16 فیصد اضافہ کے ساتھ دفاعی بجٹ 1804 ارب روپے ہے مگر دفاعی پنشن کا بوجھ حسب سابق سول بجٹ پر ہے۔

نئے بجٹ میں دودھ کے ڈبے، موبائل فون وغیرہ مہنگے جبکہ لنڈے کپڑے زرعی مشینری اور سولر پینل سستے کرنے کی تجویز  ہے۔ چند ماہ قبل سگریٹ انڈسٹری پر ڈالے گئے ٹیکسوں کے بوجھ سے اس شعبہ کے محصولات میں جو کمی ہوئی اس کا بھی سنجیدگی کے ساتھ جائزہ نہیں لیا گیا جبکہ قبل ازیں ان اضافی ٹیکسوں کو عارضی انتظام قرار دیا گیا تھا۔

آئندہ مالی سال کے بجٹ میں یوٹیلٹی سٹور کے لئے 35 ارب روپے رکھے گئے گو یہ احسن اقدام ہے۔ مستحق لوگوں کو ضروریات زندگی کی خریداری میں رعایت ملنی چاہیے مگر یوٹیلٹی سٹورز پر گھٹیا کوالٹی کی اشیاء کی فروخت سے صحت کے جو مسائل پیدا ہو رہے ہیں اس کا نوٹس کب لیا جائے گا۔؟

بینظیر بھٹو انکم سپورٹ پروگرام کا فنڈ بڑھا کر 450 ارب روپے کرتے ہوئے اس کا دائرہ کار وسیع کر دیا گیا ہے لیکن اس بار بھی فقیر پیدا کرنے اور برقرار رکھنے کی سوچ سے اوپر اٹھ کر اس پروگرام کے ذریعے چھوٹی کاٹیج انڈسٹری کے فروغ کا منصوبہ پیش نظر نہیں رکھا گیا حالانکہ چھوٹی چھوٹی گھریلو صنعتوں کے ذریعے غربت و پسماندگی کے خاتمے کا زیادہ موثر علاج کیا جاسکتا ہے۔

بجٹ میں سپریم کورٹ کے لئے 3 ارب 55 کروڑ 50 لاکھ روپے رکھے گئے اس ضمن میں غور طلب امر یہ ہے کہ سپریم کورٹ اپنی آمدنی و اخراجات کے گوشوارے آڈٹ کے لئے اکاؤنٹس جنرل پاکستان کے حوالے کرنے پر معترض کیوں ہے؟

دفاعی پنشن کو چوتھے فوجی آمر کے وزیر خزانہ شوکت عزیز نے سول بجٹ کا حصہ بنایا تھا بعد ازاں 2008ء سے پچھلے مالی سال کے بجٹ تک تواتر کے ساتھ مطالبہ کیا جاتا رہا کہ اسے واپس دفاعی بجٹ کا حصہ بنایا جائے۔

وفاقی ملازمین کی پنشن کے لئے مجموعی طور پر 761 روپے کی رقم مختص کی گئی اس میں  563 ارب روپے دفاعی شعبہ کی پنشن کے لئے ہیں اور 188 ارب روپے سول ملازمین کی پنشن کے لئے۔ آئی ایم ایف سمیت عالمی مالیاتی ادارے متعدد بار پنشن سکیم بند کرنے کے لئے کہتے آئے ہیں ان کے سامنے پنشن کی مجموعی رقم ہوتی ہے۔

آئی ٹی کے شعبہ کو سمال بزنس کا درجہ دینے کا اعلان بہر طور خوش آئند ہے۔ صحافیوں کی ہیلتھ انشورنس کے لئے ایک ارب روپے مختص کرنے سے بہتر تھا کہ حکومت ذرائع ابلاغ کے نجی اداروں میں ویج بورڈ کے مطابق تنخواہوں اور مراعات کی فراہمی کو یقینی بنوانے کے لئے اپنی ذمہ داری ادا کرتے۔

جہاں تک کم سے کم اجرت  32 ہزار روپے ماہانہ مقرر کرنے کے اعلان کا تعلق ہے تو یہ اپنی جگہ اچھی پیشرفت ہے مگر کیا پچھلے برسوں میں وفاق اور صوبوں نے کم سے کم ماہانہ اجرت مقرر کرنے کے جو اعلانات کئے ان پر عمل ہو پایا؟

یہ سوال اس لئے بھی اہم ہے کہ پچھلے مالی سال کا بجٹ پیش کرتے ہوئے سندھ حکومت نے جو کم سے کم ماہانہ اجرت مقرر کی تھی اس پر ملک کی سب سے بڑی عدالت نے لمحہ بھر کی تاخیر کے بغیر سرمایہ داروں کو حکم امتناعی تھما دیا تھا۔

نرم سے نرم الفاظ میں وفاقی بجٹ شعبدہ بازی کے سوا کچھ نہیں۔ عام آدمی کے لئے اس میں کچھ ہے نہ مہنگائی، غربت اور بے روزگاری کے خاتمے کا کوئی ٹھوس پروگرام،

ہاں سابق حکومت کے لئے طعنے ضرور ہیں اس پر بھی ستم یہ ہے کہ اس امر کو مدنظر نہیں رکھا جا رہا ہے کہ پچھلی حکومت کو نالائقوں کا ٹولہ قرار دینے والے تجربہ کاروں کا یہ دوسرا وفاقی بجٹ ہے۔

پچھلے برس بھی وفاقی بجٹ پیش کرتے ہوئے بھی بڑی لچھے دار کہانیاں سنائی گئی تھیں۔ سال پورا ہونے کو ہے اور عوام کی حالت یہ ہے کہ زندہ رہیں تو مرتے ہیں مرجائیں تو پچھلوں پر اضافی اخراجات کا بوجھ پڑتا ہے۔ ان حالات میں یہی کہا جاسکتا ہے کہ

اے بجٹ تیرے اعلان پہ رونا آیا۔

مصنف کے بارے میں:

حیدر جاوید سید پاکستان کے سینئر ترین صحافی، کالم نویس اور تجزیہ نگار ہے۔ وہ گزشتہ پانچ دھائیوں سے صحافت و اخبار نویسی کے شعبے سے منسلک ہے۔ اور پاکستان کے موقر اخبارات و جرائد کے لئے کام کر چکے ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے چوتنیس کے قریب کتابین لکھی ہے جن میں  سچ اور یہ عشق نہیں آساں تصوف کے موضوع پر ہیں باقی کچھ سیاسی ادبی کتب ہیں اور ایک سفر نامہ ہے جبکہ خلیل جبران کے کلیات کو مرتب  کر چکے ہیں۔ آج کل وہ اپنی سوانح عمری لکھنے میں مصروف ہے جبکہ روزنامہ مشرق پشاور اور بدلتا زمانہ کے لئے کالم اور ایڈیٹوریل لکھتے ہیں۔ آپ پاکستان کا واحد صحافی ہے جسے جنرل ضیا کے دور میں بغاوت کے مقدمے میں سپیشل ملٹری کورٹ نے تین سال قید کی سزا دی تھی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں