Tragic death 351

سیما اقبال کی موت! چند قابل غور سوالات


تحریر: صفی اللہ بیگ


آج میرے چھوٹے سے گاؤں احمد آباد اور ہنزہ کے سینکڑوں مرد و خواتین نے آہوں اور سسکیوں کے ساتھ اپنی ہونہار اور قابل فخر بیٹی سیما اقبال کو ان کے سوگوار خاندان کے ساتھ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے الوداع کہہ دیا۔ سیما کی اندوہناک موت نے جہاں پورے ہنزہ اور گلگت بلتستان کے لوگوں کو غمزدہ کیا وہاںصحت عامہ اور سہولیات کے فقدان کی وجہ سے ایسے قیمتی جانوں کے زیاں اور ارباب اختیار کی بے حسی پر چند سوالات بھی پیدا کیئے۔

 سیما اقبال گیس سلنڈر پھٹنے سے زخمی ہوگئی تھی۔ مگر گلگت میں برن سنٹر نہ ہونے کی وجہ سے انہیں اسلام آباد لے جایا گیا تھا جہاں ان کا انتقال ہوا۔

گلگت بلتستان پر پاکستان کی 76 سالہ انتظامی کنٹرول میں اب تک نہ اس طرح کے حادثات کے لئے سہولیات کا انتظام ہے نہ سیما اقبال جیسے قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی  کے طالبات کے لیے محفوظ ہاسٹل میسر ہے اور نہ ہی مفت تعلیم۔

صحت اور تعلیم کو ریاست نے پرائیویٹ دوکانداروں اور منافعع خوروں کے رحم وکرم پہ چھوڑ دیا ہے۔ لوگ اپنی زمینِن بیچنے پر مجبور ہیں اب صحت مارکیٹ سے خریدی جاتی ہے۔ جس کے حصول کے لیے نوجوان کبھی سڑکوں اور سفر میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں، تو کبھی معاشی تنگ دستی نوجوانوں کو اس طرح کے اموات سے دوچار کرتی ہے دوسری طرف نہ حکومت اور نہ ہی غیر سرکاری تنظیموں کی جانب سے اس طرح کے ایمرجنسی صورتحال میں انسانی جانیں بچانے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔

 گلگت بلتستان کے سیاسی کارکنوں کو مفت صحت، تعلیم اور دیگر بنیادی ضروریات کے لیے اور افسر شاہی راج کے خاتمے کے لیے جدوجہد کرنی ہوگی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں