wusat ullah khan 191

مگر یہ صرف اندازہ ہے میرا

وسعت اللہ خاں بشکریہ ہم سب


میں نے سوشل میڈیا پر سال نو کے بارے میں ہر طرح کا عہد دیکھا۔ ”میں اس سال سگریٹ چھوڑ دوں گا، والدین کو حج کراؤں گا، میٹرک میں کم از کم تیسری پوزیشن کے لیے محنت کروں گی، نئے برس کے دوران تین اسٹریٹ چلڈرنز کو پڑھاؤں گا، اس برس ضرور میں رضیہ سے شادی کر لوں گا، نامکمل مکان تعمیر کروں گا“ وغیرہ وغیرہ۔

مگر میں نے ایک بھی عہد ایسا نہیں دیکھا کہ ”اس برس میں اپنے اہل خانہ کی نہ صرف بنیادی کوویڈ ویکسینیشن مکمل کرواؤں گا بلکہ آس پاس کے لوگوں سے بھی ضد کروں گا کہ وہ نہ صرف اپنی بلکہ ہر جاننے والے کی ویکسینشین کروائیں۔“

نئے سال کے ولولے اور قسمیں وعدے اپنی جگہ۔ مگر کوویڈ کا نیا ویرئینٹ ایمکرون بھی نئے سال میں ”میں اس برس سب سے زیادہ انسانوں کو متاثر کروں گا“ کے عہد کے ساتھ گھس آیا ہے۔ اس کی رفتار پچھلے کسی بھی ویرئنٹ کے پھیلنے کی رفتار سے سات گنا زائد ہے۔

پاکستان میں اگرچہ سرکاری طور پر دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ تیس فیصد مجموعی آبادی اور چھیالیس فیصد بالغ آبادی کی ویکسینیشن مکمل ہو چکی ہے۔ جب کہ صوبہ پنجاب نے ستر فیصد اہل افراد کی ویکسینسیشن مکمل ہونے کا بھی دعویٰ کیا ہے۔ مگر ہاتھ کنگن کو آرسی کیا۔ دنیا ایمیکرون کے توسط سے کوویڈ کی پانچوں لہر میں پھنس چکی ہے اور پاکستان میں یہ لہر جنوری کے آخر سے تھپیڑے دینا شروع کر دے گی۔

جنھوں نے بنیادی ویکسینیشن بھی نہیں مکمل کروائی وہ سب سے پہلے زد میں آئیں گے۔ جنھوں نے بنیادی ویکسینیشن کروا لی ہے انھیں اس کے حملے سے بچنے کے لیے اب بوسٹر ڈوز لگوا لینی چاہیے۔ اگرچہ ویکسین شدہ افراد کے لیے ایمیکرون سے مرنے کا خطرہ کم بتایا جا رہا ہے اور یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ گزشتہ لہر میں پھیلنے والے ڈیلٹا ویرئینٹ کے مقابلے میں ایمیکرون پھیلنے کی رفتار سات گنا ہے مگر اس کا مہلک پن ڈیلٹا سے کم ہے۔ لیکن ایمیکرون پھیلنے کا عالمی چلن بتا رہا ہے کہ اس کا ہدف نسبتاً جوان آبادی ہے، اور یہی آبادی کسی بھی ملک کی معاشی ریڑھ کی ہڈی ہوتی ہے۔ آگے آپ خود سیانے ہیں۔

عالمی ادارہ صحت ( ڈبلیو ایچ او ) کے سربراہ ٹیڈروس گیبریسس نے کورونا نامی مصیبت کے دو برس پورے ہونے کے موقعے پر پریس کانفرنس میں ایک اور کورونا سونامی سے خبردار کیا ہے۔ اس وقت روزانہ عالمی سطح پر ایک ملین افراد وائرس کی اس نئی شکل سے متاثر ہو رہے ہیں۔ ایمیکرون نومبر کے شروع میں جنوبی افریقہ کے طبی ماہرین نے دریافت کیا تھا۔ مگر اس کا سب سے بڑا نشانہ اس وقت امریکا اور مغربی یورپ ہے۔

اس تیزی کا ایک بڑا سبب یہ ہے کہ اقوام متحدہ کے ایک سو چورانوے رکن ممالک نے گزرے برس کے شروع میں عہد کیا تھا کہ سال کے اختتام تک کم ازکم چالیس فیصد آبادی کی ویکسینیشن کا ہدف حاصل کر لیں گے۔ مگر بانوے ممالک اس ہدف کو حاصل نہ کر سکے۔ اب عالمی ادارہ صحت کے سربراہ نے دنیا سے اپیل کی ہے کہ تمام متعلقہ ریاستی عمل دار نئے سال کے موقعے پر عزم کریں کہ اگلے چھ ماہ میں ستر فیصد آبادی کی ویکسینیشن کا ہدف حاصل کر لیا جائے گا۔

اس وقت عالمی سطح پر ایمیکرون سے متاثر لوگوں کی تعداد میں گیارہ فیصد فی ہفتہ یعنی چوالیس فیصد ماہانہ کے اعتبار سے اضافہ ہو رہا ہے۔ اتنی رفتار اب تک کسی بھی کورونا وائرس کی نہیں رہی۔ نصف سے زائد متاثرین یورپی باشندے ہیں۔ دنیا کا طبی ڈھانچہ کوویڈ کے پچھلے تھپیڑوں سے ادھ موا ہو چکا ہے۔ اوپر سے یہ تازہ قسم نازل ہو گئی ہے۔ تصور کریں کہ جن ممالک کا صحت ڈھانچہ پہلے ہی سے کمزور ہے ان پر کس قدر دباؤ ہو گا۔ ڈاکٹروں اور نیم طبی عملے پر ایک اور نیا بھاری دباؤ الگ گل کھلائے گا۔

نئے وائرس کے لیے اس سے زیادہ پر مسرت ماحول ممکن نہیں جب چند ممالک نے ضرورت سے زائد ویکسین ذخیرہ کر لی اور بہت سے ممالک اپنی آبادی کو ویکسین لگانے کے لیے پہلی خوراک بھی بمشکل مہیا کر پا رہے ہیں۔ امیر ممالک نے تیسری دنیا بالخصوص افریقی ممالک کو جو ویکسین مفت میں دان کی ہے اس میں سے بھی بیشتر مقدار ایکسپائر ہونے کے قریب ہے۔ چنانچہ جنھیں یہ خیرات ملی وہ بھی اسے بلڈوز کر کے گڑھوں میں دبانے پر مجبور ہو رہے ہیں۔

مزید برآں ویکسین کی افادیت کے بارے میں منفی پروپیگنڈا اور اس کے لیے سوشل میڈیا کا موثر استعمال بھی لاکھوں شہریوں کو شش و پنج کے وائرس میں مبتلا کیے ہوئے ہے۔ اس سے صرف ایک آدمی کنفیوز نہیں ہو رہا بلکہ اس منفی رجحان کے اثرات اس کے پورے خاندان اور اردگرد کے لوگوں پر بھی پڑتے ہیں۔

حالانکہ حقائق یہ بتا رہے ہیں کہ مرنے والوں کی اکثریت اب ان لوگوں پر مشتمل ہے جنھوں نے ویکسین ہی نہیں لگوائی۔ ان میں سے بہت سے وہ بھی ہیں جن کی عقل ٹھکانے پر لانے کے لیے خود کورونا کو زحمت کر کے ان کے جسم میں داخل ہونا پڑا۔ اور اب وہی اینٹی ویکسین لوگ سب سے زیادہ ویکسین نواز بن گئے ہیں۔ دو ہزار بیس میں کورونا سے دنیا بھر میں اٹھارہ لاکھ اور دو ہزار اکیس میں پینتیس لاکھ اموات ہوئیں، مگر یہ وہ اموات ہیں جن کا ریکارڈ موجود ہے۔

تاہم عالمی ادارہ صحت کو امید ہے کہ دو برس کے تجربات کی روشنی میں دو ہزار بائیس اس عفریت سے مقابلہ کرنے کے لیے زیادہ بہتر پالیسی و تزویراتی ڈھانچہ مہیا کر سکتا ہے۔ بشرطیکہ ریاستیں پہلے سے زیادہ سنجیدگی اختیار کریں اور ویکسین کی دستیابی گزشتہ برس کی نسبت زیادہ سہل اور تیز رفتار ہو۔

ہو سکتا ہے نئے سال میں دنیا کے فیصلہ ساز اور دوا ساز کمپنیاں دیوار پر موٹا موٹا لکھا پڑھنے کے قابل ہو جائیں کہ جب تک آخری آدمی محفوظ نہیں ہو گا تب تک دنیا غیر محفوظ ہی رہے گی۔

سبھی چلتے رہیں گے ساتھ میرے
مگر یہ صرف اندازہ ہے میرا
(جاوید صبا)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں