Baam-e-Jahan

پاکستان میں نظامِ تعلیم

پاکستان میں نظامِ تعلیم

عزرا شیرالیاٹ


معیاری نظام تعلیم ہر معاشرے کی اولین ضرورت ہے۔ تعلیم ہی ہے جو ایک قوم کو ترقی و خوشحالی کے راہ پر گامزن کرتی ہے۔ قوم و ملت کی ترقی کا دارومدار معیاری تعلیم پر منحصر ہے۔
پاکستان میں نظامِ تعلیم بہت ہی فرسودہ ہے۔ جس کی وجہ سے ملک وقت کے ساتھ ساتھ تنزلی کی طرف جا رہی ہے۔ جس میں حکومت کی لاپرواہی، غیر حقیقی منصوبہ بندی اور ملک کے سیاسی، معاشی، اور معاشرتی بگڑتی صورتحال ہے۔

انہی پچیس تیس سالوں سے ہر آنے والی حکومت پاکستانی عوام کے لئے ایک قہر بن کر ٹوٹ رہی ہے۔ نظامِ تعلیم بھی اسی طرح فرسودہ ہو رہے ہیں۔ اردو انگریزی میڈیم میں تقسیم بھی اسی زمرے میں آتے ہیں۔ تمام پرائیویٹ اداروں کی کارکردگی بچوں کو اعلیٰ نمبر دینے کے دوڑ میں ہیں۔ بڑے شہروں میں پرائیویٹ سکول اپنی کارکردگی بہتر کرتے ہوئے پائے جائیں گے۔
مگر ان سکولوں کو چھوٹے شہروں میں دیکھا جائے تو اکثر کی حالت سرکاری سکول جیسی ہی ہوتی ہے۔ دراصل پاکستان میں سکول سسٹم ایک کاروبار بن چکا ہے۔ جس کے پاس کچھ پیسہ اکٹھا ہوا وہ تعلیم میں سرمایہ کاری کا سوچتا ہے۔ اور گلی گلی میں پرائیویٹ سکول کھولتے ہیں۔

ہر چھوٹے شہروں کی طرح گلگت بلتستان میں بھی لوگ تعلیم کے نام پہ کاروبار کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ اور ان اداروں میں رٹہ بازی اور روایتی تعلیم ہے ۔ یہ سب جانتے ہیں کہ رٹہ ایک لعنت ہے اور رٹہ اسٹوڈنٹس کے ذہنی اور روحانی ترقی کو روکتا ہے۔ اور ان کو کسی کی کھینچی ہوئی لکیر پر چلاتا دیتا ہے۔ اصل تعلیم تو وہ ہے جسے پل بنا کے ترقی کا باعث بن جائے۔ کیونکہ لوگوں سے معاشرہ تشکیل پاتا ہے اور ایک اچھے معاشرے سے ملک کی ترقی ممکن ہوتی ہے۔

کسی بھی نظام تعلیم میں بنیادی اکائی اساتذہ اور نصاب ہے۔ تعلیم ایسا ہو جو طلبہ کے ضروریات اور زہنی لیول کے مطابق ہو۔ اور اساتذہ ایسا ہو جوسٹوڈنٹس کو صحیح معنوں میں سمجھ سکتا ہو اور انکی راہنمائی کرتا ہو۔
گلگت بلتستان سمیت پورے پاکستان میں زیادہ تر ہر پرائیویٹ اور سرکاری سکولوں میں تعلیم کا معیار یہ ہے کہ کتابوں میں جو کچھ ہے اسی کو جوں کا توں پڑھایا جاتا ہے اور سارا فوکس انگریزی جملے رٹوانے پر ہوتا ہے۔ سلیبس سے ہٹ کر کچھ بھی پڑھایا سمجھاتا نہیں جاتے ۔ یہی وجہ ہے کہ طالب علموں کا اکثر حال یہ ہوتا کہ رٹہ لگایا ہوا مضمون کے علاؤہ کچھ نہیں کر پاتے۔ اور معاشرے میں بلکل معذوروں کی طرح رہ جاتے ہیں۔

ایک طرف پرائیویٹ سکولوں میں اساتذہ اسٹوڈنٹس کو ان کے سٹیٹس کے مطابق اہمیت دیتا ہے۔ جن کا
فیملی بیک گراؤنڈ زیادہ بڑا اور اچھا ہو انہیں زیادہ توجہ دئے جاتے ہیں۔ اور جو مڈل کلاس فیملی سے تعلق رکھنے والے سٹوڈنٹس ہیں انکی طرف اساتذہ کی توجہ ہوتا ہی نہیں ہے خواہ وہ کتنا ہی ذہین کیوں نہ ہو۔
اور دوسری طرف یہاں یکساں نصاب تعلیم نہیں ہے ۔ کہیں انگریزی میڈیم پڑھایا جاتا ہے کہیں اردو اور عربی ۔ اور بچے ذہنی طور پر مختلف حصّوں میں بٹ چکے ہیں ایک دوسرے کے نصاب کو قبول نہیں کر پا رہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے