ٹیکسوں کے خلاف احتجاج 219

ایکشن کمیٹی نے گندم سبسڈی میں کٹوتی اور ٹیکس کے نفاذ کو مسترد کیا


  • بیوروکریسی ، وزیر اعلٰی اور وزراء کے مراعات اور تنخواہوں میں اضافہ کے فیصلے کو واپس لیا جائے بلتستان یونیورسٹی کی فیسوں میں اضافہ اور بجلی کی نرخوں میں اضافہ کو بھی واپس لیا  جائے
  • غیر مقامیی سرمایہ داروں  کو آبی و معدنی وسائل اورزمینوں   پر قبضہ کو بند کیا جائے، ایکشن کمیٹی  

رپورٹ: نمائندہ خصوصی


گلگت: گلگت بلتستان کے   قوم پرست، مذہبی  اور ترقی پسند سیاسی جماعتوں نے    ٹیکسوں ،  گندم سبسڈی میں کٹوتی ، بجلی کے نرخوں میں اضافے کے تجاویز کو مسترد کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیاہے کی وہ  فوری طور پر  ان فیصلوں  کو واپس لے۔  اگر ان عوام دشمن فیصلوں کو فوری واپس نہ لیا  گیا تو چہلم کے بعد پورے گلگت بلتستان میں بھرپور احتجاج کی کال دی جائیگی۔

 یہ فیصلہ عوامی ایکشن کمیٹی   گلگت بلتستان  جو ایک درجن کے قریب  قوم پرست ، ترقی پسند سیاسی جماعتوں اور مذہنی تنظیموں پر مشتمل ہے ،کے ایک نمائندہ اجلاس میں کیا گیا جو گلگت میں منعقد ہوا۔

ایکشن کمیٹی نے گلگت بلتستان میں ٹیکسوں کے نفاز، گندم سبسڈی کے کوٹے میں کمی اور بجلی کی نرخوں میں اضافہ کے فیصلوں کو واپس لینے کا مطالبہ کیا۔ فوٹو: شبیر مایار

اجلاس میں گلگت بلتستان کے تمام اضلاع  قائدین شریک ہوئے، اجلاس میں متفقہ طور پر  کئی قرارداد یں منظور کی گئی جن میں  گندم سبسڈی میں کٹوتی ، قیمتوں میں اضافہ ، بجلی کی  نرخ اور بلتستان یونیورسٹی میں فیسوں کے اضافے کو مسترد کرتے ہوِے مطالبہ کیاکہ حکومت فوری طور پر  ان فیصلوں کو واپس لے۔

اجلاس  میں ایک قرارداد کے ذریعے مطالبہ کیا گیا کہ سول سپلائی میں کرپشن اور خرد برد کو روکنے کیلئے حکومت فوری طور پر اقدامات کرے، گندم سبسڈی صرف گلگت بلتستان کے شہریوں تک محدود کرے اور سیکیوریٹی فورسز سمیت دیگر سرکاری افسران کو غیر قانونی آٹے کی سپلائی فوری طور پر بند کیاجائے۔

اجلاس کے شرکاء نے متفیقہ طور پر  گلگت بلتستان میں روینیو ایکٹ  اور اس کے ذریعے غیر قانونی ٹیکسوں کو لاگو کرنے کی تجویز کو مسترد کیا  اور حکومت پر  واضح کیا کہ گلگت بلتستان جب تک ریاست پاکستان کے آئنی دائرے سے باہر ہے اور اس کی متنازعہ حیثیت  ختم نہیں ہوتا  ٹیکس کے نفاذ کا کوئی جواز نہیں۔

 

عوامی ورکرز پارٹی کے چیئرمین بابا جان  اور دیگر رہنماوں نے  اجلاس سے خطاب میں روینیو ایکٹ  بل پر  تنقید کیا اور اسے اسلام آباد کے اشرافیہ  حکمران طبقوں  کے مقامی سہولتکاروں  کی ایک اور چال قرار دیا جس کے ذریعے وہ عالمی سرمایہ داروں اور غیر مقامی   سرمایہ کاروں کو اس خطے کے معدنی، آبی وسائل، چراگاہوں، پہاڑوں  اور سیاحتی مقامات پر قابض کرانا چاہتے ہیں ۔

مرکزی انجمن تاجرگلگت کے سیکرٹری جنرل مومی مغل نے  بھی ایک بیان میں حکومت کی طرف سے ٹیکس کے نفاذ اور بجلی کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے کو مسترد کرتے ہوئے اسے مشکلات میں گری تاجر برادری پر خودکش حملہ قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی ڈالر کی اونچی اڑان اور سیلاب  سے تباہی کی وجہ سے  تاجر برادری بری طرح متاثر ہوئی  ہے۔ حکومت کو ان حالات میں تاجروں کیلئے آسانیاں پیدا کرنے کی ضرورت یے تاکہ تاجروں کیساتھ ساتھ پورے علاقے میں معاشی سرگرمیاں پھر سے بہتری کی طرف گامزن ہوسکیں۔

انہوں  نے فوری طور پر ٹیکس بل اور بجلی کی قیمتوں میں اضافے کو واپس لینے کا مطالبہ کیا بصورت دیگر تاجر تنظیمیں احتجاج کرنے پر مجبور ہوگی۔

اجلاس میں ویسٹ منیجمنٹ فیس کے نام پر  ٹیکس  کی وصولی کو  بھی مسترد کیا اور اس فیصلے کو فوری واپس لینے کا مطالبہ کیا۔

ایک قرارداد کے ذریعے  وزیر اعلیٰ ، وزراء اور ارکان اسمبلی کی تنخواہوں اور مراعات میں بے تحاشہ اضافے کو مسترد کیا گیا  اور اسے فوری طور پر واپس لینے کا  مطالبہ کیا اور ۔اجلاس  نے گلگت بلتستان کی بے لگام بیوروکریسی اور ججوں کے مراعات کو ختم کرنےکا بھی مطالبہ کیا۔  

 ایک اور قرارداد کے ذریعے  اجلاس  کے شرکاء نے گلگت بلتستان کے قدرتی وسائل کی لوٹ مار ، کانکنی کی غیرقانونی لیزاور خالصہ سرکار کے نام پر عوامی ملکیتی زمینوں کی بندربانٹ کی مذت کیں  اور کہا کہ گلگت بلتستان کے وسائل و زمینیں یہاں کی عوام کی ملکیت ہیں ان کی لوٹ مار فوری طور پر بند کی جائے اور غیرمقامی سرمایہ داروں کے غیر قانونی لیزز کو فوری طور پر ختم کئے جائیں۔

چئیرمین عوامی ایکشن کمیٹی فداحسین کی زیرصدارت اجلاس میں امیر دمینی مشاورتی کونسل ، خطیب موتی مسجد مولانا خلیل قاسمی ،   احسان ایڈووکیٹ ، چیئرمین  عوامی ورکر پارٹی کامریڈ باباجان ، رہنما عوامی ورکرز پارٹی جی بی شیرنادرشاہی ، چئیرمین عوامی ایکشن کمیٹی بلتستان نجف علی ، سینئر رہنما شبیر مایار ، وائس چئیرمین سید یعصب الدین ، صدر پشتنی باشندگان گلگت شمشاد حسین  اور دیگر نے شرکت کی۔ اجلاس میں پشتنی باشندگان گلگت ،  ، اسلامی تحریک ،عوامی ورکرز پارٹی گلگت بلتستان،   جمو ں وکشمیر لبریشن فرنٹ ، قراقرم نیشنل مومنٹ ،  انجمن تاجران گلگت ، نگر سپریم کونسل ، لیبر یونین ،  ہوٹل ایسوسی ایشن ، سول سوسائٹی ، ،  گلگت یوتھ ، سیکوار اسمبلی ، سمیت دیگر سیاسی و سماجی تنظیموں نے خصوصی شرکت کی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں