ذہن اور ذہنیت 889

ذہن اور ذہنیت


گلگت بلتستان کی ثقافتی ذہنیت اور ذہنی صحت کے تعلق کا ایک جائزہ


تحریر: عزیز علی داد

غذر کی وادی پونیال کے گاوں ہاتون میں ذہنی صحت کے حوالے سے ۱۱ستمبر کو ایک تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ اس میں مختلف شعبوں کے ماہرین نے اپنے خیالات کا اظہار کئے ۔میں نے”ذہن اور ذہنیت” کے موضوع پر اپنی رائے کا اظہار کیا۔۔

 گلگت بلتستان میں تاریخی اور ثقافتی طور پر ہم دل کو وافر مقدار میں خوراک مہیا کرتے رہے ہیں، اس لئے ہمارا ذہن دل کے مقابلے میں کمزور واقع ہوا ہے۔ چونکہ جدیدیت ذہن کی پیداوار ہے، اس لئے جدیدیت کے تقاضوں کو سمجھنے اور ان سے نبردآزما ہونے کے لئےایک خاص ذہنی رویے کی تشکیل ناگزیر ہے۔ مگر بدقسمتی سے ہمارے گھروں، تعلیمی اداروں، مذہبی بیانیوں اور ثقافتی رویوں کے ذریعے نوجوانوں کو جس طرح کی تربیت دی جاتی ہے وہ ایک ایسی ذہنیت کی تشکیل کرتی ہے جو عقل گریزاں اور غلط زمانی کا شکار ہوتی ہے۔ جس کے نتیجے میں ہم جدیدیت  کی تفہیم  میں ناکام ہوکر ذہنی الجھنوں کا شکار ہوجاتے ہیں۔

دماغ اور ذہنی صحت کا گہرا تعلق ہے۔ ہم اپنے حواس خمسہ کے ذریعے چیزوں کو محسوس کرتے ہیں۔ ان سارے محسوسات کو ہمارا ذہن مختلف طریقوں سے عمل میں لاتا ہے۔ ذہن کا محسوسات کے ساتھ اس تفاعل کے نتیجے میں ہمیں ارد گرد کی چیزیں اور افراد کی صورت نظر آتی ہے۔ اسی طرح سے وجود رکھنے والے ادارے مثلا گھر، سکول، اقدار اور سماجی عمل اور ثقافتی نقطہ نظر ہمارے ذہن پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ یوں کسی معاشرے کی ذہنیت تشکیل پاتی ہے۔

جس طرح ہر چیز کی ایک خوراک ہوتی ہے اسی طرح ہمارے ذہن کو بھی خوراک کی ضرورت ہوتی ہے۔ اور ذہن کی خوراک خیالات ہیں۔ جیسے خیالات ہونگے ایسے ہی ہماری ذہنیت ہوگی اور وہی ذہنیت ہماری شخصیت کی تشکیل کرتی ہے۔ یوں ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہم وہی ہیں جو ہمارے افکار ہیں ، ہماری شخصیت ہمارے افکار سے جدا نہیں ہے۔

ہم اس مضمون میں اس بات کا جائزہ لیں گے کہ گلگت بلتستان کے ثقافتی تناظر میں ہمارے ذہن کو کونسی چیزیں مہیا کی جا رہی ہیں یا کھلائی جا رہی ہیں اور اس کے نتیجے میں کس قسم کی شخصیت اور ذہنیت جنم لیتی ہے۔ اس لیے اس سارے عمل کو سمجھنا ضروری ہے۔

کیا گلگت بلتستان میں ذہن کی بجائے دل سے سمجھنے کی ثقافت ہے؟

A print titled: The sleeping Reason Produces Monsters” by 19th Century Spanish artist Francisco De Goya.

حیرت کی بات یہ ہے کہ گلگت بلتستان میں "سمجھ میں آنے” کے لیے الفاظ موجود نہیں ہیں۔ مثال کے طور پر سمجھ آنے کے لیے شنا زبان میں "ہیور پولا” اور کھوار میں "ہردی پوریتایا” یعنی کیا آپ کے دل نے سمجھ لیا؟  کا لفظ استعمال کرتے ہیں۔ یہی اصطلاح بروشسکی میں (اسولو بلیمیا) اور وخی میں (رتی پزوف پیرفتیا) استعمال ہوتے ہیں۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ہماری ثقافتی سوچ میں دل کو دماغ پر فوقیت دی جاتی ہے ۔کیا ان لوگوں کا دماغ نہیں جو ان کے دل میں الفاظ ڈال دیتے ہیں؟اس سے پتہ چلتا ہے کہ تاریخی طور پر دل کو زیادہ استعمال کرنے کی وجہ سے دماغ ایک عضو معطل بن گیا۔ ارتقا کا اصول بھی یہ ہے کہ جو چیز لمبے عرصے کے لیے استعمال نہیں ہوتی وہ غائب ہوجاتی ہے۔اسی وجہ سے ہمارا دماغ بنجر رہ گیا۔ یہ بات ہمارے اندر بہت بڑی خلا کو ظاہر کر رہی ہے کہ ہم اپنے دماغ کو کچھ مہیا نہیں کر رہےہیں۔ اگر کر رہے ہیں تو کیا دل کے ذریعے فیڈ کر رہے ہیں؟

دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ گلگت بلتستان کی شنا اور بروشسکی زبانوں میں مینٹل کو پاگل کہتے ہیں۔ ہمارے ہاں ذہین کےہونے کو پاگل پن کی علامت سمجھا جاتا ہے جو ایک بڑا مسئلہ اور بگاڑ کا سبب ہے حالانکہ ذہن کا ہونا بہت اچھی بات ہے۔

گلگت بلتستان میں ذہن سے تعلق رکھنے والی کسی بھی چیز کو پاگل پن سمجھنا ایک بگاڑ ہے جو ایک فرد نہیں کرتا  بلکہ اس  کے پیچھے پورے ادارے کام کر رہے ہوتے ہیں اور یہ ادارے نہ صرف ایک فرد کی ذہن پر عمل کرتے ہیں بلکہ تمام افراد کی ذات پر کام کرتے ہیں۔ ان اداروں کے کرپٹ خیالات ہماری ذات کی تکمیل میں بہت بڑی رکاوٹ ہیں۔ نہ صرف رکاوٹ ہیں بلکہ یہ تعمیر شخصیت کی بجاۓ تخریب شخصیت کا باعث بن رہی ہیں۔۔ یہ ادارے ہماری ذات کی تشکیل اپنے حساب کے مطابق کرتے ہیں جس کے نتیجے میں جس طرح کی ہماری شخصیت نکل کر آتی ہے اس کو سمجھنے کی اشد ضرورت ہے۔

سب سے پہلے  اس کو دیکھیں گے کہ ہماری ذات کی تشکیل کہاں سے شروع ہوتی ہے؟ہماری ذات کی تشکیل گھر سے شروع ہوتی ہے۔ گھر میں جوں جوں بچہ بڑا ہونے لگتا ہے اور اس کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت میں اضافہ ہوتا ہے تو ماں باپ فوراً اس بچے کی سوچ کو کنٹرول اور سلب کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہمارے معاشرے میں پہلے سے بے شمار لیبل تیار ہیں۔ ہر شخص پر اس کے مذہبی ، سماجی ، لسانی ، علاقائی اور معاشرتی پس منظر کے حساب سے ایک لیبل چسپاں کیا جاتا ہے۔ جوں جوں ہم ہوش سنبھالنے لگتے ہیں توں توں ہم پر لگاۓ گئے لیبلز میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔ چونکہ کلیات کے اس کلچر میں فرد کو پنپنے کی آزادی نہیں ہوتی ہے اس لیے فرد خود کی بجاۓ کل کی کاپی بننا پسند کرتا ہے۔ مثال کے طور پر پرائمری جماعت کے بچے دیگر سینئر بچوں کی نقل کرنا شروع کرتے ہیں اور چھوٹے بچے بڑوں کی دیکھا دیکھی پھینکے ہوۓ سگریٹ کے ٹکڑے اٹھا کر چوری چھپے پینا شروع کرتے ہیں اور یوں سمجھتے ہیں کہ جیسے وہ اپنے فیصلے کرنے کے قابل بن چکے ہیں یا وہ وہی گناہ کر سکتے ہیں جو ان کے بڑے کرتے ہیں۔

بچوں کے ساتھ تربیت کے نام پر جبر


ہمارے یہاں والدین بچوں کی مثبت سرگرمیوں میں حصّہ لینے کی حوصلہ شکنی کرتے رہے ہیں۔ مثلا تاش کھیلنا ایک ذہنی کھیل ہے اور ذہانت کی علامت ہے۔ مگر جب ہم تاش کھیلنے لگتے ہیں تو ماں باپ اور رشتےدار ہمیں جواری اور لعنتی سمجھتے ہیں۔ اسی طرح اسکول کے بعد سائیکل چلاتے ہوئے بچے کو استاد دیکھتے ہی ان کی مار پیٹ کرنے لگتے ہیں۔ اس طرح بچوں کو تفریح کا کوئی موقع ہی میسر آنے نہیں دیتے۔ اس صورت حال میں بچوں کی شخصیت بھلا کہاں سے ابھرے گی۔ اس طرح بچیوں کے ساتھ بھی بچپن سے ظلم ہوتا ہےاور انہیں بچپن سے ہی معاشرتی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ وہ جوں جوں بڑی ہونے لگتی ہیں تو ان کے سر پر چادر اور اسکارف ڈالتے ہیں۔ پھر جب وہ بالغ ہوجاتی ہے تو گھر سے نکلنے پر پابندی لگتی ہے۔ ان کے باہر نکلتے ہی ایسا لگتا ہے شیطان اپنی کمین گاہ سے باہر نکل آیا ہے۔ہمارے معاشرے میں لڑکی اس چڑیا کی طرح ہے جس کے جیسے ہی پر نکلنے لگتے ہیں تو سارا معاشرہ مل کر اس کے پر کاٹنے لگتے ہیں۔۔

گھر میں بچوں کی تربیت بہت ہی ابتری کا شکار ہے۔ بہت سارے مسائل ماں باپ کی وجہ سے ہیں کیونکہ وہ بچوں کو سمجھنے سے قاصر ہیں۔ وہ بچوں کے اندر اپنے خواب منتقل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ درحقیقت ان کے خواب نہیں ہوتے بلکہ ان کی ناکامیوں اور فرسٹریشن کا نتیجہ ہوتا ہے جنہیں وہ خواب کا نام دے کر بچوں کے اندر انجیکٹ کرنے لگتے ہیں اور آخر کار بچوں کی اپنی شخصیت ختم ہو جاتی ہے اور ان میں کسی اور کی شخصیت سامنے آتی ہے۔ اس طرح بچے کی شخصیت کی مثال ایک فرمائشی کیسٹ کی طرح بن جاتی ہے۔ بطورِ ایک ادارہ خاندان کی صورت حال کچھ ایسی ہے۔۔

Raphaelesque Head Exploding by Salvador Dali

اب دوسرا اہم ادارہ سکول یا تعلیمی ادارے ہیں جہاں تعلیم دی جاتی ہے لیکن علم نہیں۔ لہذا تعلیم اور علم میں بنیادی فرق کو سمجھنا ضروری ہے۔گلگت بلتستان والوں نے تعلیم  تو بہت حاصل کی ہے لیکن علم حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ یہی وجہ کہ ہم اپنے متعلق علم پیدا نہیں کرسکتے ہیں۔ تعلیم کا بنیادی مقصد شخصیت کی تعمیر، تکمیل اور ذات کا نکھار ہے۔ لیکن ہم میں یہ چیز مفقود ہے۔

بچے کو اس کی میلان کے مطابق تعلیم حاصل کرنے دینا چاہیے۔ وہ وہی کام کرے جو اس کی پسند اور انتخاب ہو مگر گلگت بلتستان میں مئسلہ یہ ہے کہ ہم پڑھتے کچھ ہیں اور کام کچھ اور کرتے ہیں۔ مثلا فلسفہ کا طالب علم NGO میں کام کرتا ہے دن کو اس کی شخصیت کچھ اور ہوتی ہے رات کو کچھ اور۔ پھر لوگوں کے سامنے کچھ اور۔اس طرح ہمارے سامنے ایک بکھری شخصیت سامنے آتی ہے، اس طرح چار پانچ بکھری ہوئی شخصیتیں  ایک فرد کی نذات میں جنم لیتی ہیں۔ ہمیں بحیثیت قوم اس بکھری ہوئی ذات کو یکجا کرنے کی ضرورت ہے ۔

ہمارے سکولوں میں کیا ہو رہا ہے؟ہم علم کیوں حاصل کرتے ہیں؟ ہمارے تعلیمی اداروں میں اس پہلو پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ گلگت بلتستان میں لڑکےاچھی نوکری کی خاطر تعلیم حاصل کرتے ہیں جبکہ لڑکیوں کو  اچھے رشتے کی غرض سے تعلیم دلائی جاتی ہے تاکہ نوکری کرنے والا لڑکا ہاتھ آجاۓ۔ یوں ایک غلام دوسرے غلام سے شادی کرنا چاہتا ہے۔اسی ذہنیت کی وجہ سے ہم غلام ابن غلام پیدا کئے جا رہے ہیں۔

چونکہ ہمارا ثقافتی ذہنیت خود پراگندہ ہے، اس لئے جو چیز ہمارے تصرف میں آتی ہے اسے برباد کر کے رکھ دیتے ہیں۔ ہم نے مذہب کے ساتھ کیا سلوک کیا؟ کیا ہماری عدالتوں میں انصاف ملتا ہے؟ کیا ہسپتالوں میں شفا ملتی ہے؟ کیا قانون کے محافظوں کے ہاتھوں ہم محفوظ ہیں؟ اگر ان سب کا جواب نفی میں ہے تو اس سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ ہمارے اندر جو بھی داخل ہوتا ہے اسے ہماری ذہنیت خراب کرکے رکھ دیتی ہے۔

درسگاہوں میں یک رخا شخصیت کی تعمیر


سکول سے یونیورسٹی تک ہم کوکاکولا کی بوتلوں کی طرح ایک ہی قسم کی پیداوار پیدا کررہے ہیں۔ اس قسم کی سوچ کی وجہ سےیونیورسٹی میں بھی طالب علموں کو پتہ نہیں چلتا ہے کہ انہیں کیا بننا ہے؟ گلگت بلتستان میں چند سال قبل تک بلکہ آج بھی والدین کی اکثریت اپنے  بچوں کو انجینئر یا ڈاکٹر بنانا چاہتی ہے۔ اب بھی تین یا چار شعبوں کو فوقیت دی جاتی ہے۔ہم اپنے معاشرے میں آرٹس کو تعلیم ہی نہیں سمجھتے۔

بچہ اگر فیل ہوتا ہے تو مصیبت کا پہاڑ کھڑا کر دیا جاتا ہے حالانکہ بچے کے فیل ہونے سے کوئی قیامت نہیں برپا ہوتی۔ بچوں کو اسی مضمون میں تعلیم حاصل کرنی چاہیے جو ان کےذہنی میلان کے مطابق ہو۔ اگر  اس طرف توجہ دی جائے  تو یہ اس کی زندگی کی درست راہ کا تعین کرے گی۔یہ آپ کی قسمت بدل کر رکھ دے گی۔ والدین، سکول اور سماج کے بتائے ہوئے تین چار راستوں کے علاوہ بھی زندگی میں ہزاروں راستے موجود ہوتے ہیں مگر والدین اور معاشرے کا خیال ہے کہ کامیابی کے ضامن صرف ان کےبتائے ہوئے تین چار راستے ہی ہیں اگر بچہ اس راستے سے ہٹ گیا تو پل صراط سے گر جائے گا۔ ماں باپ اور معاشرہ یہ سمجھتے ہیں کہ ان کے متعین کردہ راستوں پر بچے نہ چلیں تو ان کی زندگی ہی ختم ہوجائے گی۔ حالانکہ ان کے متعین کردہ تین چار راستوں کے برعکس زندگی کہیں اور پڑی ہوتی ہے۔ چنانچہ لازمی ہے کہ طالب علم سماج کے متعین کردہ روایتی راستوں کے علاوہ دیگر راستوں کا کھوج لگائیں کیونکہ زندگی لاکھوں راستے دکھاتی ہے۔

ساتھ ہی ساتھ طالب علموں میں ناکامی برداشت کرنے کا حوصلہ ہونا چاہیے۔چونکہ انسان خدا نہیں کہ وہ ہر شے پر قادر ہو۔ ناکامی کامیابی کی راہ ہوتی ہے اور نقصانات کے اپنے فائدے بھی ہوتے ہیں لہذا طالب علم کسی اور کی خواہشات پر چلنے کے بجائے اپنی شخصیت کی تشکیل اور تکمیل پر توجہ دے۔ ورنہ ہمارا سماج یک رخے انسان پیدا کرتا جائے گا۔ ایک جرمن فلسفی ہربرٹ مارکیوزے نے جدید زمانے میں یک رخی ذہنیت کے خوفناک نتائج پر یک رخا انسان کے عنوان سے ایک کتاب بھی لکھی ہے۔ یک رخا انسان تانگے کے اس گھوڑے کے مماثل ہے جس کو اپنی ناک کی سیدھ کے علاوہ  کچھ اور نظر نہیں آتا ہے۔ ٹھیک اسی طرح ہمارا نظام تعلیم ایک ہی طرح کی ذہنیت پیدا کرتا ہے۔ اس کے نتیجے میں ہمیں اپنے اردگرد کی چیزیں نظر نہیں آتی ہیں۔ یوں ہم ایک طرح سے اندھے ہوجاتے ہیں اور ہم کوئی اور کام نہیں کرسکتے ہیں۔منتشر خیالات منتشر شخصیت کو جنم دیتے ہیں اور ہماری ذات اپنے آپ تک محدود ہوجاتی ہے اور ہمیں زندگی کی دیگر خوبصورتیاں نظر نہیں آتی ہیں۔ دوسروں کے جذبات کے متعلق ہم بے حس  ہوتے ہیں اور اس طرح ہماری شخصیت ایک ایسے خول میں قید ہوجاتی ہے جودوسروں کی دی ہوئی ہوتی ہے۔ اسی طرح ہم اپنی ذات میں دوسروں کے بناۓ ہوئے زندان کا قیدی بن جاتے ہیں ۔۔

چونکہ ہمارا نظام تعلیم ہمیں سہہ جہتی آنکھیں نہیں دیتا ہے اس لیے ہمارا ذہنی افق بہت محدود رہتا ہے۔ اور جس ذہن کے آفاق محدود ہوں، اس کی سوچ بھی محدود ہوتی ہے۔ بدقسمتی سے ہمارا تعلیمی نظام طالب علموں کی ذہنیت کو بہت محدود کر کے انہیں دوسرے آفاق کے ساتھ ملنے نہیں دیتا ۔ حالانکہ جس طرح کا تجربہ و مشاہدہ انسان کرتا ہے، اس کے لئے ہزاروں آنکھیں بھی کم ہیں۔لہذا طالب علموں کو اپنے ذہنی افق کو وسعت دینے کی اشد ضرورت ہے۔

اس طرح مذہب بھی ہماری ذات کا اہم حصہ ہوتا ہے۔ مذہب کو ہم رد نہیں کر سکتے، لیکن  ہمیں مذہب کے اس پہلو کو اپنانے کی ضرورت ہے جو رواداری، انصاف، عدل، سچائی، رحم، محبت اور برداشت کا درس دیتا ہے نہ کہ ظلم، نفرت اور تشدد کا۔ مشہور روسی ناول نگار میکسم گورکی اپنے شہرہ آفاق ناول "ماں” میں اس پہلو کو کمال فراست سے بیان کرتا ہے۔  وہ ہمیں اس کی ایک بہترین مثال ماں کی ذات سے دیتا ہے۔ ناول کے ایک کردار پاویل زار روس کے ظلم کے خلاف اپنے دوستوں کے ساتھ چھپ کر جدوجہد کرتا ہے اور اس کی ماں ان کی خدمت کرتی ہے۔ ایک دن ماں اپنے بیٹے پاویل سے دریافت کرتی ہے کہ لوگ  تمہیں بدعتی کہتے ہیں، کیا تم خدا کو مانتے ہو؟ پاویل نرمی سے اپنی ماں سے کہتا ہے کہ "برا مت مانو ماں! میں اس مہربان اور رحم دل خدا کا ذکر نہیں کر رہا تھا جس پر تمہیں اعتقاد ہے بلکہ اس خدا کی بات کر رہا ہوں جس سے پادری ہمیں اس طرح ڈراتے ہیں گویا وہ کوئی ڈنڈا ہو۔ وہ خدا کے نام پر تمام لوگوں کو چند افراد کی مجرمانہ خواہش کے سامنے سجدے کرانا چاہتے ہیں”۔

مذہب اور خوف


کسی بھی قسم کا نظریہ یا سوچ اپنا اظہار معاشرے کے افراد کے ذریعے کرتا ہے۔ اور یہ افراد اس فکر کی ابلاغ اپنے ذہنی سانچے یا ذہنیت کے ذریعے کرتے ہیں۔ اس لیے ہم کہہ سکتے ہیں کہ جیسی ہماری شخصیت ہوگی ویسا ہی مذہب نکل کر باہر آئےگا۔ ہمارے ہاں مذہب کے نام پر جو کچھ پڑھایا جاتا ہے اس سے ہمیں دوسرے مذاہب سے ڈر لگتا ہے۔ عیسائی، یہودی اور ہندو تو دور کی بات ہے، ہمیں اپنوں سے ڈر لگنے لگتا ہے۔ غذر والوں کو ہنزہ والوں سے، ہنزہ والوں کو نگر والوں سے، گلگت والوں کو دیامر والوں سے اور بلتستان والوں کو گلگت والوں سے۔ یہی خوف زدہ ذہنیت مذہبی معاملات میں بھی سرایت کر گئی ہے۔ کسی دوسرے فرقے کی موجودگی ہماری عاقبت کا خاتمہ کردیتی ہے۔ اس لیے اس دنیا میں اس کا وجود مٹانا لازمی سمجھتے ہیں۔

گلگت شہر میں فرقہ واریت کے نتیجے میں جس طرح سنیوں کا شیعہ علاقوں اور شیعوں کا سنی علاقوں سے جو صفایا ہوا ہے یہ اس خوف زدہ ذہنیت کی بھرپور عکاسی کرتا ہے۔ خوف میں گھری ذہنیت ہر جگہ خوفناک چیزیں ڈھونڈتی ہے۔ ملا ہمیں جہنم کے وہ مناظر دکھاتا کہ روح کانپ اٹھتی ہے۔ وہ اللہ کی ایسی صفات بتائیں گے جن سے ہمیں ڈر لگتا ہو مگر مجال ہے وہ ہمیں  اللہ کی خوب صورت صفات بتائے۔ اللہ غفور، رحیم، قدوس، مومن،مصور، غفار، وہاب، حلیم، الشکور،جلیل، نور، اور بہت کچھ ہے۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ اللہ خوبصورت ہے۔حضرت محمد ﷺ  فرماتے ہیں ” إِنَّ اللّٰہَ جَمِیْلٌ یُحِبُّ الْجَمَالَ” یعنی "یقینا اللہ تعالیٰ خوبصورت ہے اور خوبصورتی کو محبوب رکھتا ہے۔” اگر ہمیں اپنی ذہنیت اور زندگی خوبصورت بنانی ہے تو ہمیں اللہ کے خوبصورت صفات کو سمجھتے ہوئے مذہب کو روشن اور خوبصورت پہلو سے سمجھنا پڑے گا۔ اب کلام اور فقہ کا زمانہ چلا گیا۔ ملا کا خدا ڈراتا ہے۔ گورکی کی ماں کا خدا کرم کرتا ہے۔ آج وہ چیز دل کش لگے گی جو حسین اور جمیل ہو۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ مذہب کو جمالیات کی رو سے بیان کیا جائے ۔۔

ہماری خوف زدہ ذہنیت زندگی کے ہر شعبے میں سرایت کر گئی ہے۔ اس سے مذہب بھی محفوظ نہیں رہا ہے۔ آج مذہب نے ہمیں مضبوط بنانے کے بجائے اپاہج کرکے رکھ دیا ہے۔ ہم مابعد جدیدیت کے دور میں خوف زدہ ذہن کے ساتھ رہتے ہیں۔ ایسی خوف زدہ شخصیت اور خوفزدہ معاشرہ جدیدیت اور مابعد جدیدیت کا مقابلہ نہیں کرسکتا ہے۔ ہمیں پہلے لوڈ اسپیکر، ٹیلی فون، ڈش اینٹینا اور ٹیلی ویژن سے ڈر لگتا تھا۔ اب ہمیں موبائل فون سے ڈر لگتا ہے۔ چنانچہ لوگ اکثر کہتے ہیں کہ لڑکے اور لڑکیاں موبائل فون کی وجہ سے خراب ہوتی ہیں لیکن تلخ حقیقت یہ ہے کہ یہ موبائل فون کی وجہ سے نہیں بلکہ بیمار معاشرتی ذہنیت کی وجہ سے خراب ہوتے ہیں۔ ہمیں ہر ایجاد اور نئی سوچ سے ڈر لگتا ہے۔ ہمیں اپنی شخصیت بنانے کے لیے اس خوف اور خوفزدہ شخصیت سے نکلنے کی ضرورت ہے کیونکہ خوف اور ذہنی صحت کا آپس میں بہت گہرا تعلق ہے۔

اس طرح ہمارے کلچرل Ethos  یعنی چیزوں کو دیکھنے کا نظریہ بھی عجیب سا ہے۔ اس لئے ہم عجیب و غریب چیزوں کو celebrate کرتے ہیں۔گذشتہ دنوں ایک کتاب "شہدا کی سرزمین: ضلع غذر کی تحصیل یاسین کے شہدا” پر نظر پڑی مگر اس کتاب کے مصنف کا نام اس کتاب میں درج نہیں ہے۔

Melancholy by Edvard Munch.

ہمیں شہدا کی بہت قدر ہے لیکن  غذر شہداء کی سرزمین والے بیانیہ کو اب بدلنے کی ضرورت ہے غذر ملنگ جان اور یورمس کی بھی سر زمین ہے ، چنانچہ زندگی کی بجائے موت کو celebrate کرنا عقلمندی نہیں ہے ہمیں زندگی کی کسی خوبصورت چیز کو منانے کی ضرورت ہے نہ کہ موت کو۔

ہمیں زندگی کو دوام دینے والی چیزوں کو celebrate کرنے کی ضرورت ہے ۔لالک جان شہید کو نشان حیدر ملنے کے اگلے سال یاسین کے ایک نوجوان نے جھنڈا لیکر گلگت کے ایک پل سے دریا میں یہ ثابت کرنے کے لیے چھلانگ لگادی کہ وہ بہادر ہے۔اس عمل کو  بہادری سمجھا جاتا ہے حالانکہ یہ بہادری نہیں ہے۔ چونکہ موت سے وہ نہیں ڈرتا جو زندگی سے محبت نہیں کرتا ہے۔ اصل میں وہ شخص بہادر نہیں ہوتا ہے جو زندگی سے ڈرتا ہے۔جو زندگی سے ڈرتا ہے وہ موت میں پناہ لیتا ہے۔ چنانچہ غذر شہدا کی سرزمین والے استعارے  کو اپنی زندگی میں کم سے کم استعمال کریں یہ بہت لازمی ہے۔

دنیا میں فرد کی ذات کی اندرونی مضبوطی پر توجہ دی جاتی ہے کہ ذات اندر سے مضبوط ہونی چاہئے نہ کہ باہر سے۔ مگر ہمارے معاشرے میں بیرونی چیزیں ہمارے اندر کی دنیا پر قبضہ کر کے ہمارے زندگی کی راہ متعین کررہی ہیں۔

اندر  کی چیزیں انسان کی شخصیت کی تکمیل کرتی ہیں مگر گلگت بلتستان میں یہ عمل الٹا چل رہا ہے۔اب تو ہمارے اندر کچھ رہا ہی نہیں، اس لیے ہم نے اندر کو باہر کے حوالے کردیا ہے۔چنانچہ اب ہماری  نوکری، تنخواہ،  عہدہ،لباس گھر مکان اور سٹیٹس ہماری ذات کو بیان کرتی ہے۔ ہمارے اندر کی ذات مر گئی ہے کیونکہ ہماری ذات کو ہم نے باہر کی چیزوں کے پاس گروی رکھا ہے۔ ‘مجھ میں وہ مر گیا جو تھا ہی نہیں’۔ ہم باہر کی چیزوں پر سرمایہ کاری کرتے ہیں اور اس طرح مادی چیزوں کے ساتھ جوڈ کر ہم نے شخصیت کی تشکیل کی ہے جبکہ اندر کچھ بھی نہیں رہا ۔

ہماری اخلاقی گراوٹ کا عالم یہ ہے کہ ہم لوگوں کی عزت بھی ان کی ذات ،قابلیت اور ذہانت نہیں بلکہ ان کا عہدہ رتبہ اور دولت دیکھ کر کرتے ہیں جو کہ شرم ناک ہے۔ اس شخصیت دشمن ثقافت اور ذہنیت سے بچنے کے لیے  دولت اور گاڑیوں سے ہٹ کر انسان کی  عزت کرنا سیکھیں کیونکہ انسان کی ذات گاڑیوں سے علیحدہ ہوتی ہے۔گلگت بلتستان کا کلچر اندرونی طور پر بہت کمزور ہو گیا ہے اندر کچھ نہیں رہا تو باہر ڈھکوسلے کے سوا کچھ نہیں ہوگا۔ان سب رجحانات کو دیکھ کر یہ کہا جاسکتا ہے کہ ہم روحانی طور پر ختم ہوگئے ہیں۔یہ عبادات اور رسومات اب فقط عادتوں کی ورزشیں ہیں۔ اپنے آپ کو اپنے سچ سے چھپانے کی ایک جھوٹی کوشش ہے۔

کیا کیا جائے؟


اب سوال یہ ہے کہ ان سب مسائل کا حل کیا ہے؟ اس کا جواب آسان نہیں۔ اس کے لیے جز وقتی کام کی بجاۓ لمبے عرصے کے لیے معاشرتی ذہنیت کی تبدیلی کے لیے کام کرنا ہے کیونکہ موجودہ ثقافتی رویے اور معاشرتی اقدار ہی ذہنی بیماریاں پیدا کرنے کا سبب بن رہی ہیں۔ اس سلسلے میں پہلا قدم ثقافتی مکالموں کا آغاز کرنا ہے تاکہ لوگ بات چیت کرکے ذہنی بیماریوں کا ادراک حاصل کریں۔ یہ ادراک پھر ذہنی تبدیلی کے لیے راہ ہموار کریگا۔ جولائی میں گاہکوچ میں ذہنی صحت کے حوالے سے غذر یوتھ کا جرگہ اور آج ہاتون میں نوجوانوں کے طرف سے منعقد کردہ ذہنی صحت کے حوالے سے یہ تقریب ایسے ہی ثقافتی مکالمے کی جانب ایک اہم جست نہیں تو قدم ضرور ہے۔

دوسری اہم بات یہ ہے کہ اس ذہنی بے ہنگمی اور معاشرتی انتشار کے دور میں ہماری شخصیت بھی ٹوٹ پھوٹ کر بکھر جاتی ہے۔ اس بکھری ہوئی شخصیت کو یکجا کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ اس حوالے سے ہمیں اپنے ذہن کو کشادہ کرنے کی ضرورت ہے تاکہ  ہر طرح کے نئے تجربات کا سامنا کرنے کی صلاحیت پیدا ہو۔انسان تجربات کا سامنا کرنے سے نہیں مرتا بلکہ ان کے خوف سے مرتا ہے ۔پہلے سے زیادہ نوجوانوں کو آج آپس میں مل کر ایک دوسرے سے بات چیت کرنے کی ضرورت ہے بات چیت کا عمل جاری رہنا ضروری ہے کیونکہ

ہمارے یہاں Emotional intelligence کی بہت زیادہ کمی ہے۔ ہمارے نوجوان PhD کرنے کے باوجود  بھی جذباتی عمل کا سامنا کرنے سے گھبراتے ہیں۔چونکہ ہمارے تعلیمی نظام میں یہ نہیں پڑھایا جاتا ہے کہ جذبات سے کیسے نمٹنا ہے۔ اس لیے اعلی تعلیم حاصل کرنے کے بعد بھی جب ہمیں دھچکوں اور ان سے پیدا شدہ جذبات کا سامنا ہوتا ہے تو ہم ان کے سامنے ڈھیر ہوجاتے ہیں۔ دو سال قبل ہنزہ کا ایک طالب علم جو امریکہ سے PhD کر رہا تھا، ایک جذباتی صورت حال کا سامنا نہیں کرسکا اور اس نے خود کشی کی۔ چنانچہ ہمارے یہاں Emotional intelligence کی بہت ضرورت ہے صرف اچھی یونیورسٹی میں داخلہ کافی نہیں۔

زندگی کا ایک سبق یہ بھی ہے کہ زندگی میں کوئی short cutنہیں ہے یہ ایک طویل عمل ہے ہم میں سے بہت سارے طالب علم کسی short cut کے چکر میں ہوتے ہیں وہ غلط ہے کیونکہ شارٹ کٹ کا راستہ مایوسی کی منزل پر اختتام پذیر ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ طالب علموں کو چاہیے کہ وہ دوسروں کی خواہشات اور معیار  پر اپنی کامیابیوں اور ناکامیوں کا تعین نہ کریں بلکہ کامیابی کی تعین خود اپنے متعین کردہ معیار سے کریں۔ناکامی کو نئے زاویے سے دیکھیں لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ناکام ہو جائیں بلکہ اپنے اندر اھلیت پیدا کریں۔ یاد رکھیں کہ نقصانات کے بہت فائدے ہیں جن کو فائدے میں رہنے والے نہیں دیکھ سکتے ہیں۔ اس لیے میں اس عمل کو فائدوں کے نقصانات کہتا ہوں۔ وہی کریں جو آپ کے ذہنی میلان کے مطابق ہو۔اگر آپ آرٹسٹ ہیں تو وہی بہت اچھے طریقے سے کریں۔ ناکامی اور کامیابی سے ہٹ کر اس مضمون کو پڑھیں جو آپ کو پسند ہے۔دل لگا کر مت پڑھیں بلکہ دماغ لگا کر ان چیزوں کو پڑھیں۔ دوسروں کو سمجھیں اور محسوس کرنے کی کوشش کریں تاکہ آپ کی ذات کی تشکیل اور نشوونما ہوسکے۔

گلگت بلتستان میں ذہنی صحت سے متعلق مسائل اسی غلط زمان ذہن، منقسم شخصیت اور دل کی بسیار خوری کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں۔ نوجوان طالب علموں اور طالبات سے درخواست ہے کہ وہ تعلیم سے زیادہ علم کے حصول پر زور دیں اور اپنی باقاعدہ ڈگری حاصل کرنے تک دل کو بھول جائیں اور ذہن کو مضبوط کریں۔ آج تک ہم دل لگا کر پڑھتے آئے ہیں۔ آج سے دل لگا کر پڑھنا ترک کردیں اور دماغ لگا کر پڑھیں۔ تب ہی آپ ذہنی طور پر صحت مند زندگی گزار پائیگے۔


ضروری نوٹ: میری تقریر کو ٹرانسکرائب کرنے پر نوجوان وکیل اور لکھاری اشفاق احمد کا ذکر کرنا ضروری سمجھتا ہوں


عزیزعلی داد ایک سماجی مفکر ہیں۔ انہوں نے لندن اسکول آف اکنامکس اور پولیٹکل سائنس سے سماجی سائنس کے فلسفے میں ماسٹرز کی ڈگری لی ہے۔ وہدی نیوز، فرائڈے ٹائمز، ہائی ایشیاء ہیرالڈ اور بام جہاں میں مختلف موضوعات پر کالم لکھتے ہیں۔ انہوں نے فلسفہ، ثقافت، سیاست، اور ادب کے موضوعات پر بے شمار مضامین اور تحقیقی مقالے ملکی اور بین الاقوامی جریدوں میں شائع ہو چکے ہیں۔ ؑعزیز جرمنی کے شہر برلن کے ماڈرن اوریئنٹل انسٹی ٹیوٹ میں کراس روڈ ایشیاء اور جاپان میں ایشیاء لیڈرشپ پروگرام کےریسرچ فیلو رہے ہیں  

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں