57

پاکستان میں ڈس انفارمیشن پھیلا کر پیسے کمانے کا رجحان


جان بوجھ کر حقائق کے منافی یا غلط معلومات کی ترسیل ڈس انفارمیشن کہلاتی ہے، جس کا عام طور پر مقصد کسی کو نقصان پہنچانا ہو سکتا ہے۔ پاکستان میں ڈس انفارمیشن کے ذریعے پیسے کمانے کا رجحان عام ہوتا جا رہا ہے۔

تحریر: ماہ نور قریشی


تیزی سے تبدیل ہوتی اس دنیا کے مسائل بھی تیزی سے تبدیل ہو رہے ہیں۔ ڈیجیٹل میڈیا پر بڑھتی ڈس انفارمیشن ایک ایسا مسئلہ ہے، جس سے نمٹنے کے لیے بڑے بڑے ادارے اپنے تئیں کوشاں ہیں۔ امریکہ میں ہونے والے انتخابات ہوں یا پاکستان کا تیزی سے تبدیل ہوتا سیاسی منظر نامہ، ہر طرف ڈس انفارمیشن کا پھیلاؤ اپنا رنگ دکھاتا ہے اور اس حد تک اثر انداز ہوتا ہے کہ رائے عامہ میں تبدیلی لاکر حکومتیں بناتا اور گراتا ہے۔

 تحقیقی حوالوں کے لیے استعمال ہونے والی آن لائن لائبریری ڈیٹا ریپورٹل کے اعداد و شمار کے مطابق سال 2023 میں پاکستان میں سوشل میڈیا اور یوٹیوب صارفین کی تعداد 71.70 ملین بنتی ہے۔ صحافت کے لیے سازگار ماحول کی کمی خصوصاﹰ جبری برطرفیوں کے باعث بہت سے صحافیوں نے سوشل میڈیا خاص کر یوٹیوب اور فیس بک کا رخ کیا ہے۔

ورلڈ پریس فریڈم انڈیکس 2023 کے مطابق 180 میں سے 118 ممالک میں کرائے جانے والے سروے کے شرکاء کا کہنا تھا کہ ڈس انفارمیشن پھیلانے میں سیاسی جماعتیں بھی ملوث ہوتی ہیں اور یہ سب کچھ ان لوگوں کے ذریعے کرایا جاتا ہے، جو بظاہر غیر جانب دار اور معیاری صحافت کے دعوے دار ہوتے ہیں۔

 صحافی عمر دراز مین سٹریم میڈیا سے اب ڈیجیٹل میڈیا کا رخ کر چکے ہیں۔ انہوں ںے ڈی ڈبلیو سے بات کرتے ہوئے بتایا، ”مین سٹریم میڈیا میں جاب سکیورٹی اور تنخواہ کا کوئی سٹرکچر نہیں ہے، ایسے میں یوٹیوب پیسے کمانے کا ایک اچھا ذریعہ ہے۔‘‘ عمر کہتے ہیں کہ تھمب نیل کا انتخاب ایک آرٹ ہے، کہانی کو مختلف زاویے سے دکھانے میں کوئی برائی نہیں۔

اسی بات سے اتفاق کرتے ہوئے پاکستانی ڈیجیٹل میڈیا ادارے پاک افیئرز سے منسلک صحافی نعمان خان نے کہا کہ ایک سال تک پیشہ ورانہ انداز میں کام کرنے کے باوجود جب چینل پر ریچ نہیں آئی تو ریچ بڑھانے کے لیے بڑے یوٹیوبرز کی طرح تھمب نیل پر سنسنی خیز جملے لکھنا مجبوری بن گئی تھی۔

ڈس انفارمیشن سے پیسے کمانے کے موضوع پر بات کرتے ہوئے فری لانس صحافی زیاد علی شاہ نے کہا کہ ایک صحافی ڈس انفارمیشن کے ذریعے ماہانہ دو سے تین لاکھ روپے تک کما رہا ہے۔ ان کے بقول یہاں تک کہ ارشد شریف کے قتل پر بھی صحافیوں نے غلط خبریں دی تھیں۔

صحافت کا سب سے بڑا اصول یہ ہے کہ ہر بات کو تصدیق کر کے شائع کیا جائے کیونکہ غلط خبروں کی ترسیل معاشرے میں انتشار کا باعث بنتی ہے اور اس کو ہائبریڈ وار فئیر میں بھی استعمال کیا جاتا ہے۔

انڈیپینڈنٹ اردو میں سوشل میڈیا ایڈیٹر ثاقب تنویر نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ ڈس انفارمیشن کی مارکیٹ اتنی پرکشش ہے کہ اس سے ویوز ملنے کے امکانات بہت بڑھ جاتے ہیں، کئی صحافی اس سے نام اور پیسہ کما رہے ہیں، جو کہ غلط ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہر صحافی کی اولین ذمہ داری ہے کہ وہ خبر کی خود تصدیق کرے۔ پاکستان میں ادارے بین الاقوامی اداروں کے تعاون سے فیکٹ چیکنگ کی ٹریننگ تو دیتے ہیں مگر میڈیا ہاؤسز اس کام کے لیے الگ سے ملازمین ہائر نہیں کر سکتے کیونکہ یہ نہ صرف ایک مہنگا کام ہے بلکہ اس سے بہت کم مالی فوائد حاصل ہوتے ہیں۔

میڈیا میٹرز فار ڈیموکریسی کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ہر 10 میں سے 9 افراد یہ سمجھتے ہیں کہ ڈس انفارمیشن بہت بڑا مسئلہ ہے۔ فیس بک یا یوٹیوب کی کمیونٹی گائیڈ لائنز کے مطابق ڈس انفارمیشن کو پلیٹ فارم سے ہٹا دیا جاتا ہے۔ تاہم پاکستان جیسے ممالک میں ڈس انفارمیشن یا غلط خبریں مقامی زبانوں میں پھیلائی جاتی ہیں ایسے میں ان پلیٹ فارمز کے لیے ان خبروں کو سمجھنا اور بلاک کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔

 گلوبل نیبرہوڈ فار میڈیا انوویشن کی صدر ناجیہ اشعر کے مطابق چینلز ان سوشل میڈیا ایکٹوسٹس کو بھرتی کر رہے ہیں، جن کی فالوؤنگ لاکھوں میں ہو، چینلز ان کی مقبولیت سے فائدہ اٹھانے کے لیے کسی پالیسی کا نفاذ نہیں کرتے، یہاں معاملہ کاروبار کا زیادہ اور صحافت کا کم ہے۔

انہوں نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ صحافیوں کی تربیت انتہائی ضروری ہے، ”ڈیپ فیک، ارٹیفیشل انٹیلیجنس، فیکٹ چیک پروسس، بوٹ فیک اور جدید صحافتی طریقوں سے ہم آہنگ ہو کر صحافی اپنی کریڈیبلیٹی کو نکھارتے ہیں۔‘‘ نجی اداروں کے علاوہ حکومتی اداروں میں بھی فیکٹ چیکنگ کی ٹریننگز دی جا رہی ہیں۔

ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان کے ڈپلومیٹک  کارسپانڈنٹ اور ہیڈ آف چائینیز افئیرز ڈاکٹر فرقان راؤ کا کہنا ہے،”ہمارے ادارے میں فیکٹ چیکنگ کی ٹریننگ سال میں تقریبا دو بار کروائی جاتی ہے تاکہ کوئی صحافی خبر کو بنا تصدیق شائع نہ کرے۔ خبر شائع کرنے سے پہلے لازمی فیکٹ چیک کیا جاتا ہے، یہ بھی کہ جو کہا جا رہا ہے وہ سچ ہے یا نہیں؟ اس کے لیے ہم آفیشل ویب سائٹس سے ڈیٹا چیک کرتے ہیں۔‘‘

اگر نجی یا سرکاری اداروں کے صحافیوں کی رائے کو مدنظر رکھا جائے تو اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ٹریننگز اور فیکٹ چیکنگ تو ہر جگہ ہو رہی ہے لیکن پھر بھی ڈس انفارمیشن پھیلائی جا رہی ہے۔ آرٹیفیشل انٹیلیجنس بھی ڈس انفارمیشن کے حوالے سے زیر بحث ہے۔ یورپی یونین ریسرچ اینڈ انوویشن میگزین، ہورائزن کے مطابق آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے ذریعے ڈیپ فیک تصاویر، ویڈیوز اور آوازیں بنائی جا سکتی ہیں، جن کو پہچاننا مشکل عمل ہے۔

ایسے میں جب ریسرچ اور رپورٹس واضح طور پر پاکستان میں ڈس انفارمیشن کے پھیلاؤ کے بارے میں اپنی تشویش ظاہر کر رہی ہیں تو صحافیوں پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ ڈس انفارمیشن کو ذریعہ معاش نہ بنائیں کیونکہ یوٹیوب پر ایسے چینلز کی بھرمار ہے، جو غلط خبریں پھیلا رہے ہیں۔

بشکریہ: ڈی ڈبلیو اردو

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں