دیامر حادثہ اور امیج کا جھگڑا


تحریر: عنایت بیگ


غذر میں جب ہم خودکشیوں کے روک تھام پر کام کر رہے تھے، تب ایک بچی نے مجھے اپنی کہانی سناتے ہوئے ایک جملہ کہا جس نے مجھے بہت متاثر کیا۔ یہ بچی ذہنی صحت سے متعلق کسی سیمینار میں شریک تھی جہاں مقرر صاحب نے شرکائے سیمینار سے کہا کہ، "خودکشیاں آپ کرتے ہو اور بدنامی ہماری ہو جاتی ہے”۔ بطور ردعمل اس بچی کا گلہ یہ تھا کہ یہ کیسے بے حس لوگ ہیں جنہیں اپنے امیج کی پرواہ ہے ہماری زندگیوں کی نہیں۔

دیامر میں دہشت گردی کے حالیہ واقعے کے بعد کچھ دوستوں کا اب بھی یہی خیال ہے کہ دیامر کا امیج خراب کیا جا رہا ہے۔ جبکہ اسی دیامر کے کچھ باشعور و باہمت نوجوانوں نے اس حادثے پر بھی ہمیشہ کی طرح کھل کر بات کی ہے۔

ہمارا ہمیشہ سے یہی موقف رہا ہے اور ہم نے اپنے دیامر کے دوستوں سے بھی یہی گزارش کی ہے کہ دیامر کا امیج خراب کرنے والے (یا امیج خراب کرنے کے لیے استعمال ہونے والے ) آپ ہی کے آس پاس ہیں، اور یہی مٹھی بھر عناصر دیامر کے اصل دشمن ہیں۔ جب تک ان مٹھی بھر شدت پسندوں کے خلاف دیامر کے اندر سے کوئی توانا تحریک نہیں اٹھتی، باقیوں کا شور شرابہ فرقہ واریت اور دیامر دشمنی ہی کہلائے گا، اور بالآخر امیج زندگی سے بڑھ کر نہیں ہوتا۔

اللہ اس حادثے میں جاں بحق ہونے والوں کی مغفرت فرمائے اور زخمیوں کو جلد از جلد شفایابی عطا فرمائے۔ اللہ ہمیں بھی عقل و شعور عطا فرمائے تاکہ ہم ایک باشعور اتحاد کے رشتے میں جڑ سکیں، اور ان کے دلوں میں بھی رحم اتارے جو معصوم انسانوں کا خون بہاتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں